نئی دہلی 12 جولائی (ایس او نیوز) کرناٹک سمیت مہاراشٹرا اور گجرات میں بارش لوگوں کے لئے آفت بن گئی ہے اور کئی علاقوں میں چٹان کھسکنے کے واقعات سمیت بارش سڑکیں پانی کے ساتھ بہہ گئی ہیں، کئی مکانات منہدم ہوگئے ہیں، درختوں کے اُکھڑنے اور الیکٹرک کھمبوں کے گرنے سےبھی کافی نقصانات ہوئے ہیں۔
قومی راجدھانی دہلی اور مغربی اتر پردیش میں کافی انتظار کے بعد بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا، البتہ ملک کی کئی ریاستوں میں بھاری بارش نے معمولات زندگی درہم برہم کر دئے ہیں۔ گجرات، مہاراشٹر، ہماچل پردیش اور کرناٹک میں ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مزید بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے جبکہ گجرات اور مہاراشٹر میں تقریباً 140 افراد کی جان چلی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھاری بارش کے سبب مہاراشٹر میں اب تک 76 جبکہ گجرات میں 63 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ گجرات کے ولساڈ سمیت 5 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ 8 اضلاع میں آرنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر میں تانسا ندی میں طغیانی آگئی ہے اور خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ کئی علاقوں میں دریاؤں کے ساتھ آبشاروں نے بھی خوفناک روپ اختیار کر لیا ہے۔ گڑھ چرولی میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ وین گنگا ندی میں طغیانی کی وجہ سے کئی گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ متعدد عمارتیں زیر آب نظر آ رہی ہیں۔ پانی بھر جانے کی وجہ سے لوگوں کو آمد و رفت میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
گجرات میں بارش نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ جام نگر، کچھ، موربی، نرمدا، نواساری، سورت سمیت متعدد اضلاع کے حالات کم و بیش ایک جیسے ہیں اور ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔ بھاری بارش کی وجہ سے گجرات کےکتاپی کا ڈوسواڈا ڈیم بھر کر بہنے لگا ہے۔ ڈیم کا پانی آس پاس کے گاؤں میں بھر رہا ہے جس سے لوگ خوف زدہ ہیں۔
نوساری ضلع میں شہر سے گاؤں تک لوگوں کا برا حال ہے اور پورا ضلع زیر آب ہو گیا ہے۔ اس ضلع سے بہنے والی امبیکا اور پورنا ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر آ گئی ہیں۔ ساحلی علاقوں میں آباد لوگ خوف زدہ ہیں اور انتظامیہ انہیں محفوظ مقامات پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گجرات میں بارشوں کے سبب لینڈ سلائڈنگ بھی ایک مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں۔
مدھیہ پردیش کے رائے سین کا بارنا ڈیم بھی اوور فلو ہو رہا ہے، اس کے 6 گیٹ کھول دئے گئے ہیں، جس سے آس پاس کے علاقہ میں پانی بھر گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے 145 پر بنا پل بھی زیر آب آ گیا۔ اگر بارش کا سلسلہ جاری رہا تو ڈیم سے مزید پانی چھوڑنا پڑے گا، جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔